خاص پیشکش

لڈو جاسوس اور خالی پلیٹ

جاسوس حمزہ ایک گم شدہ لڈو کی تلاش شروع کرتا ہے، مگر سراغ اسے اپنی ہی جیب تک لے آتے ہیں۔

کہانی پڑھیں

امی نے پلیٹ میں دس لڈو رکھے تھے۔

تھوڑی دیر بعد صرف نو بچے۔

حمزہ نے فوراً اپنی کھلونے والی عینک پہنی۔

’’یہ معاملہ جاسوس حمزہ حل کرے گا!‘‘

چھوٹی بہن سارہ نے پوچھا، ’’آپ کی فیس؟‘‘

’’ایک لڈو۔‘‘

’’پہلے گم ہوا لڈو تو ڈھونڈ لیں، پھر ایک اور غائب کیجیے گا۔‘‘

حمزہ نے سب سے پہلے بلی سے پوچھ گچھ کی۔

’’تم کہاں تھیں؟‘‘

بلی نے جمائی لی۔

حمزہ نے نوٹ کیا: ’’جواب دینے سے انکار۔‘‘

پھر وہ ابا کے پاس گیا۔

’’کیا آپ نے لڈو دیکھا؟‘‘

ابا نے اخبار سے سر اٹھایا۔

’’جی ہاں۔ گول تھا۔‘‘

حمزہ نے گہری سانس لی۔

’’یہ بات تو مجھے بھی معلوم ہے!‘‘

آخر سارہ کو میز کے نیچے ایک زرد سا ذرہ ملا۔

حمزہ جھکا۔ اس کی جیب سے بھی ویسا ہی ذرہ گر گیا۔

پھر اس نے آستین دیکھی۔

وہاں بھی لڈو کا نشان تھا۔

سارہ نے آنکھیں چھوٹی کیں۔

’’جاسوس صاحب… آج ناشتے کے بعد امی نے آپ کو کیا دیا تھا؟‘‘

حمزہ ایک دم خاموش ہوگیا۔

پھر بولا، ’’ایک… چھوٹا سا… گول سا…‘‘

’’لڈو؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

اتنے میں امی آگئیں۔

’’وہ میں نے ہی دیا تھا۔ پلیٹ میں شروع سے نو لڈو بچے تھے!‘‘

حمزہ نے اپنی ڈائری بند کی۔

’’معاملہ حل ہوگیا۔‘‘

سارہ نے ہاتھ بڑھایا۔

’’اور معاملہ میں نے حل کیا ہے۔ فیس میری ہوئی!‘‘

اخلاقی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔