خاص پیشکش

ٹن ٹن اور سموسوں کی دعوت

سمیع کا روبوٹ ٹن ٹن نانی کی دعوت میں مدد کرنے آتا ہے، مگر ہر بات کا الٹا سیدھا مطلب سمجھ کر سب کو ہنسا دیتا ہے۔

کہانی پڑھیں

سمیع کو چیزیں بنانے کا بہت شوق تھا۔ کبھی جوتوں کے ڈبے سے گاڑی بناتا، کبھی بوتلوں کے ڈھکنوں سے ایسا چشمہ جسے پہن کر کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔

اس کا کہنا تھا، ’’یہ آنکھوں کو آرام دینے والا چشمہ ہے!‘‘

ایک دن اس نے ایک چھوٹا سا روبوٹ بنا لیا۔ اس کا پیٹ پرانے ٹفن جیسا تھا، آنکھیں دو گول بلب، اور سر پر ایک چمچ لگا تھا۔

چھوٹی بہن مریم نے پوچھا، ’’سر پر چمچ کیوں ہے؟‘‘

سمیع نے سنجیدگی سے کہا، ’’یہ اس کا اینٹینا ہے۔‘‘

’’اچھا! میں سمجھی دماغ میں کھیر پک رہی ہے۔‘‘

روبوٹ کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔

’’کھیر کہاں ہے؟‘‘

دونوں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے۔ روبوٹ کا نام رکھ دیا گیا: ٹن ٹن۔

اتوار کو نانی جان کے گھر سموسوں کی دعوت تھی۔ سمیع ٹن ٹن کو ساتھ لے گیا۔

’’نانی جان! آج یہ آپ کی مدد کرے گا۔‘‘

نانی خوش ہوگئیں۔

’’بہت خوب! ٹن ٹن، کان کھول کر سنو۔‘‘

کھٹاک!

روبوٹ کے دونوں کان چھوٹی کھڑکیوں کی طرح کھل گئے۔

’’کان کھول دیے۔ اب ان میں کیا رکھنا ہے؟‘‘

نانی کا چشمہ ہنستے ہنستے ناک سے پھسل گیا۔

’’ارے بھئی! میرا مطلب ہے غور سے سنو۔ ذرا میرا ہاتھ بٹاؤ۔‘‘

ٹن ٹن نے اپنا ایک ہاتھ کھولا اور نانی کی طرف بڑھا دیا۔

’’یہ لیجیے۔ واپس ضرور کر دیجیے گا۔ میرے پاس صرف دو ہیں۔‘‘

مریم نے پیٹ پکڑ لیا۔

’’نانی! اس سے مدد مانگتے مانگتے تو پورا روبوٹ کھل جائے گا!‘‘

سمیع نے جلدی سے اس کا ہاتھ واپس لگایا۔

اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی۔

نانی نے کہا، ’’مہمان آگئے! ٹن ٹن، ان سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا۔‘‘

ٹن ٹن دروازے پر پہنچا۔ خالہ اندر آئیں تو اس نے سر جھکا کر کہا:

’’جلیبی۔ گلاب جامن۔ برفی۔‘‘

خالہ رک گئیں۔

’’بیٹا، سلام کہاں ہے؟‘‘

ٹن ٹن نے ذرا سوچا۔

’’شاید مٹھائی کے دوسرے ڈبے میں۔‘‘

اب تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔

سمیع ٹن ٹن کو ایک طرف لے گیا۔

’’دیکھو، میٹھی باتوں کا مطلب مٹھائیوں کے نام لینا نہیں۔ اس کا مطلب ہے پیار سے بات کرنا۔‘‘

’’تو پہلے یہی کہنا تھا!‘‘ ٹن ٹن بولا۔ ’’میرے پیٹ میں ٹفن ہے، تمہارے دماغ کی خبریں نہیں!‘‘

سمیع بھی ہنس پڑا۔ پھر اس نے سوچ سمجھ کر کہا:

’’اس میز کے پاس کھڑے ہوجاؤ۔ ہر مہمان کو پلیٹ میں دو سموسے دو، اور کہو: لیجیے، مزے سے کھائیے۔‘‘

یہ بات ٹن ٹن کو فوراً سمجھ آگئی۔

اب وہ بڑی شان سے سموسے بانٹنے لگا۔

’’لیجیے، مزے سے کھائیے!‘‘

سب سے پہلے ننھا پپو آیا۔ اسے دو سموسے مل گئے۔

تھوڑی دیر بعد پپو الٹی ٹوپی پہن کر دوبارہ آگیا۔

’’میں پپو کا بھائی ہوں۔‘‘

ٹن ٹن کی آنکھیں ٹمٹمائیں۔

’’پپو کا کوئی بھائی نہیں ہے۔ اگلا مہمان!‘‘

پپو واپس گیا۔ اس بار کاغذ کی بڑی سی مونچھ ناک کے نیچے چپکا لایا۔

موٹی آواز میں بولا، ’’السلام علیکم! میں پپو کے ماموں کا دوست ہوں۔ دو سموسے دینا۔‘‘

ٹن ٹن نے نیچے دیکھا۔

’’پپو صاحب! مونچھیں نئی ہیں، نیلے جوتے وہی ہیں!‘‘

پپو نے اپنے جوتوں کو گھورا، جیسے ساری غلطی انہی کی ہو۔

نانی نے ہنستے ہوئے اسے پاس بٹھایا۔

’’سب کو مل جائیں، پھر تمہیں ایک اور مل جائے گا۔‘‘

دعوت ختم ہوئی تو نانی نے ٹن ٹن کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔

’’آج تو تم نے میرا دل جیت لیا!‘‘

ٹن ٹن ایک لمحے کے لیے بالکل خاموش ہوگیا۔

پھر بولا:

’’دل آپ اپنے پاس رکھیے، نانی جان۔ مجھے انعام میں دو نئی بیٹریاں دے دیجیے!‘‘

اخلاقی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔