کہانی پڑھیں
ریحان کو پرانے صندوق میں ایک نیلا چراغ ملا۔
اس نے گرد صاف کی تو دھوئیں کے ساتھ ایک جن نکل آیا۔
’’کیا حکم ہے، میرے آقا؟ محل چاہیے؟ ہیرے چاہیے؟ سونے کا پہاڑ؟‘‘
ریحان نے کہا، ’’میرے ساتھ پتنگ اڑائیں گے؟‘‘
جن نے پلکیں جھپکائیں۔
’’پتنگ؟ اس کے لیے تین سو سال بعد جگایا ہے؟‘‘
’’آپ کو آتی نہیں؟‘‘
جن فوراً سیدھا ہوگیا۔
’’آتی کیوں نہیں! میں بہت بڑا جن ہوں۔‘‘
اس نے جادو کیا اور ایک ایسی پتنگ بنائی جو پورے صحن سے بڑی تھی۔
ریحان نے کہا، ’’یہ پتنگ ہے یا گھر کی نئی چھت؟‘‘
جن نے اسے چھوٹا کردیا۔
پھر ڈور کھینچی۔ پتنگ اوپر گئی تو جن بھی اس کے پیچھے اڑ گیا۔
ریحان چلایا، ’’آپ نے نیچے رہنا ہے!‘‘
جن واپس آیا۔
اس بار اس نے پتنگ کو حکم دیا، ’’سیدھی اڑو!‘‘
پتنگ ایک جگہ ساکت کھڑی ہوگئی۔
ریحان ہنس پڑا۔
’’اسے بھی تھوڑا کھیلنے دیں۔ ہر وقت حکم نہیں دیتے۔‘‘
آخر جن نے جادو بند کیا اور ریحان سے ڈور سنبھالنا سیکھا۔
پتنگ ہوا میں لہرانے لگی۔
جن خوشی سے بولا، ’’واہ! میں نے کبھی بغیر جادو کے اتنا مزہ نہیں کیا!‘‘
شام کو واپس چراغ میں جاتے ہوئے اس نے پوچھا:
’’کل پھر جگاؤ گے؟‘‘
’’کس لیے؟‘‘
جن نے آہستہ سے کہا:
’’مجھے کنچے کھیلنا بھی نہیں آتے۔ مگر یہ بات کسی کو بتانا مت!‘‘
لوک اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔