کہانی پڑھیں
ایک صبح شہزادے کو ہچکی لگ گئی۔
’’ہک!‘‘
اس کا تاج اچھلا۔
’’ہک!‘‘
تاج ذرا اور اچھلا۔
تیسری ہچکی پر تاج وزیر صاحب کے سر پر جا گرا۔
وزیر فوراً سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔
’’جب تک تاج یہاں ہے، کیا میں دو حکم دے سکتا ہوں؟‘‘
شہزادہ ہنسنے لگا، مگر ہچکی نہ رکی۔
حکیم نے پانی پلایا۔ باورچی نے شہد دیا۔ شاہی گلوکار نے لوری سنائی۔
لوری سن کر حکیم سو گئے، شہزادہ نہیں۔
آخر محل کے مالی کی بیٹی نور آئی۔
اس نے پوچھا، ’’یہ سب کیا کررہے ہیں؟‘‘
وزیر نے کہا، ’’ہچکی روکنے کی کوشش۔ تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے؟‘‘
نور نے ذرا سوچا، پھر شہزادے کے کان میں کچھ کہا۔
شہزادے کی آنکھیں گول ہوگئیں۔
’’کیا؟ میرا گھوڑا تخت پر بیٹھا ہے؟‘‘
وہ دوڑتا ہوا دربار پہنچا۔
تخت پر گھوڑا نہیں تھا۔
ایک ننھی بلی تاج پہنے بیٹھی تھی، اور گھوڑا کھڑکی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
نور نے کہا، ’’معاف کیجیے، میں نے جلدی میں غلط جانور بتا دیا۔‘‘
شہزادہ اتنا ہنسا کہ اسے کچھ دیر بعد خیال آیا:
’’ارے! میری ہچکی تو رک گئی!‘‘
سب نے خوشی منائی۔
وزیر نے بلی سے تاج واپس لینا چاہا۔
بلی نے فوراً پنجہ تاج پر رکھ دیا۔
’’میاؤں!‘‘
نور بولی، ’’لگتا ہے ملکہ صاحبہ ابھی دو حکم دینا چاہتی ہیں۔‘‘
لوک اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔