خاص پیشکش

بندر میاں کا فوٹو اسٹوڈیو

بندر میاں جنگل کے جانوروں کی تصویریں کھینچنے لگتے ہیں، مگر ہاتھی کی ایک چھینک سب کو حیران کردیتی ہے۔

کہانی پڑھیں

بندر میاں نے جنگل میں فوٹو اسٹوڈیو کھولا۔

دروازے پر لکھا تھا:

’’ایسی تصویر کھینچیں گے کہ آپ خود کو پہچان کر حیران رہ جائیں گے!‘‘

سب سے پہلے زرافہ آیا۔

بندر نے کیمرے میں دیکھا۔

’’آپ کا چہرہ تصویر میں نہیں آرہا۔‘‘

زرافے نے گردن جھکائی۔

’’اب؟‘‘

’’اب صرف ناک آرہی ہے۔‘‘

آخر بندر درخت پر چڑھا، تب تصویر بنی۔

پھر کچھوا آیا۔

بندر نے کہا، ’’مسکرائیے!‘‘

کچھوا اپنے خول میں چھپ گیا۔

’’مسکرا رہا ہوں۔‘‘

’’مگر دکھائی تو دیجیے!‘‘

’’مسکراہٹ چاہیے یا پورا کچھوا؟ پہلے فیصلہ کرلیجیے۔‘‘

دوپہر کو سب جانور ایک ساتھ تصویر کھنچوانے آگئے۔

بندر نے انہیں ترتیب سے کھڑا کیا۔

’’ہاتھی پیچھے، خرگوش آگے، زرافہ ذرا بادل سے نیچے!‘‘

سب تیار ہوگئے۔

بندر نے کہا، ’’تین پر سب بولیں: کیلا! ایک… دو…‘‘

اتنے میں تتلی ہاتھی کی سونڈ پر بیٹھ گئی۔

ہاتھی نے ناک سکیڑی۔

بندر چلایا، ’’چھینکنا مت!‘‘

’’آآآچھوں!‘‘

ہوا کے جھونکے سے بندر کی ٹوپی اڑ گئی، خرگوش کے کان آنکھوں پر آگئے اور کیمرے کا بٹن دب گیا۔

تصویر میں سب حیرت سے بندر کو دیکھ رہے تھے، جو الٹا ایک شاخ سے لٹک رہا تھا۔

بندر نے شرمندہ ہوکر تصویر دکھائی۔

سب جانور ہنسنے لگے۔

’’یہی چاہیے! ہر ایک کو ایک نقل دو!‘‘

اگلے دن اسٹوڈیو کے باہر نیا بورڈ لگا تھا:

’’عام تصویر: پانچ کیلے۔ ہاتھی کی چھینک والی تصویر: دس کیلے!‘‘

جانوروں کی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔