خاص پیشکش

مرغا میاں کی چھٹی

مرغا میاں چھٹی منانے کے لیے الارم گھڑی لاتے ہیں، مگر گاؤں کو جگانے کا معاملہ کچھ اور ہی بن جاتا ہے۔

کہانی پڑھیں

مرغا میاں ہر صبح سب سے پہلے جاگتے اور پورے گاؤں کو جگاتے تھے۔

ایک رات انہوں نے اعلان کیا، ’’کل میری چھٹی ہے۔ روز روز ککڑوں کوں کرتے کرتے گلا بھی کہتا ہے کہ مجھے سونے دو!‘‘

مرغی نے پوچھا، ’’پھر سب کو جگائے گا کون؟‘‘

مرغا میاں نے ایک الارم گھڑی دکھائی۔

’’یہ نئی ملازمہ! نہ دانہ مانگتی ہے، نہ چھٹی۔‘‘

انہوں نے الارم لگایا اور مزے سے سو گئے۔

صبح گھڑی بجی:

ٹرررررر!

مرغا میاں نے نیند میں اسے تھپکی دی۔

’’سو جاؤ، بیٹی۔ ابھی بہت اندھیرا ہے۔‘‘

گھڑی پھر بجی۔

انہوں نے اسے تکیے کے نیچے رکھ دیا۔

کچھ دیر بعد بکری آئی۔ اس نے کھڑکی سے منہ اندر کیا اور پوری طاقت سے بولی:

’’میں ں ں ں!‘‘

مرغا میاں اچھل کر بیٹھ گئے۔

’’ارے! میرے گلے کو کیا ہوگیا؟‘‘

بکری ہنستے ہوئے بولی، ’’تمہارا گلا ٹھیک ہے۔ آواز میری ہے!‘‘

باہر پورا گاؤں جمع تھا۔ دودھ والا خالی برتن لیے کھڑا تھا اور کسان کی ایک ٹانگ پاجامے میں تھی، دوسری باہر۔

مرغا میاں شرمندہ ہوئے، مگر مرغی نے فوراً کہا:

’’کوئی بات نہیں۔ چھٹی سب کا حق ہے۔ آج ہم سب مل کر کام کریں گے۔‘‘

اس دن گاؤں والوں نے باری باری جگانے کی ذمہ داری لے لی۔

اگلی صبح مرغا میاں کی چھٹی تھی۔ وہ خوب آرام سے سو رہے تھے کہ باہر سے آواز آئی:

’’گرم گرم ناشتہ تیار ہے!‘‘

مرغا میاں بستر سے اچھلے۔

’’یہ والا الارم کہاں ملتا ہے؟ مجھے دو چاہییں!‘‘

جانوروں کی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔