خاص پیشکش

جوتوں کی ہڑتال

عمر کے جوتے اسکول جانے سے انکار کردیتے ہیں اور اپنی دلچسپ شرطیں منوانے کے لیے ہڑتال پر بیٹھ جاتے ہیں۔

کہانی پڑھیں

عمر اسکول جانے لگا تو اس کا دایاں جوتا میز کے نیچے چھپ گیا۔

بایاں جوتا الماری کے پیچھے جا بیٹھا۔

عمر نے آنکھیں ملیں۔

’’امی! میرے جوتے آج مجھ سے پہلے چلنا سیکھ گئے ہیں!‘‘

میز کے نیچے سے آواز آئی:

’’ہم ہڑتال پر ہیں!‘‘

’’مگر کیوں؟‘‘

دایاں جوتا باہر نکلا۔

’’کل تم نے ہمیں کیچڑ میں چھلانگیں لگوائیں۔ پھر صاف کیے بغیر بستر کے نیچے پھینک دیا!‘‘

بایاں جوتا بھی بولا، ’’اور مجھے تو ایک جراب کے ساتھ رہنا پڑا جس کی خوشبو سے مچھر بھی بے ہوش ہوسکتا تھا!‘‘

عمر نے اپنی ناک سونگھی، پھر فوراً جرابوں کی طرف دیکھا۔

’’اچھا، اچھا! آج صاف کردوں گا۔ ابھی دیر ہورہی ہے۔‘‘

’’وعدہ کاغذ پر لکھو،‘‘ دائیں جوتے نے کہا۔

عمر نے لکھا:

’’میں اپنے جوتے صاف رکھوں گا، گیلے ہوں تو سکھاؤں گا، اور انہیں چیزیں چھپانے کا ڈبہ نہیں بناؤں گا۔‘‘

بایاں جوتا چونکا۔

’’ہاں! پچھلے ہفتے میرے اندر سے آدھا بسکٹ نکلا تھا!‘‘

عمر نے کاغذ آگے کیا۔

’’اب تم بھی دستخط کرو۔‘‘

دونوں جوتے کاغذ پر چڑھے اور کیچڑ کے دو نشان لگا دیے۔

معاہدہ ہوگیا۔

عمر نے جوتے پہنے ہی تھے کہ دونوں ایک ساتھ چلائے:

’’رکو!‘‘

’’اب کیا ہوا؟‘‘

’’ہم نے ہڑتال ختم کی ہے، اپنی جگہیں نہیں بدلیں۔ تم نے پھر دایاں جوتا بائیں پاؤں میں پہن لیا ہے!‘‘

اخلاقی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔