کہانی پڑھیں
حنا کو امرود کے درخت پر ایک ننھا سا بادل پھنسا ملا۔
وہ روئی کے گولے جتنا تھا اور آہستہ آہستہ بڑبڑا رہا تھا:
’’میں نے کہا تھا بائیں مڑو۔ ہوا مجھے دائیں لے آئی!‘‘
حنا نے اسے شاخ سے آزاد کیا۔
’’تم کہاں رہتے ہو؟‘‘
’’اوپر۔ بہت اوپر۔ جہاں تمہاری پتنگیں آکر ہماری ناک گدگداتی ہیں۔‘‘
بادل تھک گیا تھا، اس لیے حنا نے اسے اپنی قمیص کی جیب میں رکھ لیا۔
گھر پہنچی تو امی نے پوچھا، ’’تمہاری جیب گیلی کیوں ہے؟‘‘
جیب سے آواز آئی، ’’معاف کیجیے گا۔ راستے میں ذرا سی بارش نکل گئی۔‘‘
امی کے ہاتھ سے آلو گرتے گرتے بچا۔
حنا نے بادل کو میز پر بٹھایا، مگر وہ تیرتا ہوا بسکٹوں کے ڈبے میں جا بیٹھا۔
’’واہ! نرم بستر!‘‘
’’وہ بسکٹ ہیں،‘‘ حنا نے بتایا۔
بادل فوراً باہر نکلا۔
’’اسی لیے اتنی چرچراہٹ ہورہی تھی!‘‘
صحن میں حنا کا ایک پودا مرجھایا ہوا تھا۔ بادل نے اسے دیکھا تو سینہ پھلا لیا۔
’’یہ کام مجھے آتا ہے۔‘‘
اس نے پودے پر ہلکی سی پھوار برسائی۔ پتے چمک اٹھے۔
حنا خوش ہوئی۔ اس نے بادل کو کھلے آسمان کی طرف اچھالا۔ ہوا اسے اوپر لے گئی۔
اگلی صبح وہ پھر آیا۔
اس کے ساتھ تین اور ننھے بادل تھے۔
’’یہ میرے دوست ہیں۔‘‘
حنا نے ہنس کر پوچھا، ’’انہیں بھی پانی دینا آتا ہے؟‘‘
بادل بولا، ’’ہاں، مگر پہلے بتاؤ… بسکٹوں والا ہوٹل کھلا ہے؟‘‘
لوک اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔