کہانی پڑھیں
تالاب کے مینڈک کو اپنی آواز بہت پسند تھی۔
ایک دن اس نے تختی لگائی:
’’موسیقی سیکھیے۔ پہلا سبق مفت، دوسرا سبق بھی ٹر ٹر!‘‘
بطخ، جھینگر اور ایک ننھا کچھوا شاگرد بن گئے۔
مینڈک نے کہا، ’’سب میری طرح آواز نکالو۔ ٹررر!‘‘
بطخ بولی، ’’قیں قیں!‘‘
جھینگر بولا، ’’چِر چِر!‘‘
کچھوے نے منہ کھولا۔
کوئی آواز نہ آئی۔
مینڈک نے کان قریب کیا۔
کچھوا بولا، ’’میں ابھی سانس لے رہا ہوں۔‘‘
مینڈک نے سر پکڑ لیا۔
’’ایسے تو ہمارا گانا کبھی تیار نہیں ہوگا!‘‘
پاس بیٹھی چڑیا نے کہا، ’’سب کو اپنی آواز میں گانے دو۔‘‘
مینڈک کو بات پسند آئی۔
بطخ نے قیں قیں کی۔ جھینگر نے باریک سُر نکالا۔ کچھوے نے دو کنکروں سے تال بجائی۔
مینڈک نے اونچی آواز میں ٹر ٹر شروع کردی۔
اب موسیقی واقعی مزے دار لگ رہی تھی۔
شام کو کنسرٹ ہوا۔ سب جانور سننے آئے۔
گانے کے بیچ اچانک:
’’چھپاک!‘‘
مینڈک جوش میں اچھلا تھا اور پتّے سے پھسل کر پانی میں گر گیا۔
سب خاموش ہوگئے۔
پھر بطخ بولی، ’’واہ! پانی والا ڈھول!‘‘
تالیاں بجنے لگیں۔
اگلے گانے سے پہلے کچھوے نے پوچھا، ’’استاد جی، چھپاک کب کرنا ہے؟‘‘
بھیگا ہوا مینڈک بولا:
’’وہ خاص سُر تھا۔ آج دوبارہ دستیاب نہیں!‘‘
جانوروں کی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔